Font by Mehr Nastaliq Web

لے کر وہ میرے آئینہ دل کو کیا کرے

قمر جہان آبادی

لے کر وہ میرے آئینہ دل کو کیا کرے

قمر جہان آبادی

MORE BYقمر جہان آبادی

    دلچسپ معلومات

    یہ غزل گیا کے لٹریری کلب میں 1898ء کے دوران منعقدہ ایک مشاعرے میں پڑھی گئی تھی، اس مشاعرے میں فارسی اور اردو دونوں زبانوں کے مصرعِ طرح دیے گئے تھے، اردو مصرعِ طرح „کیا شکر کوئی نعمت حق کا ادا کرے“ تھا، مشاعرے میں پڑھی گئی غزلوں کو بابو رام پرشاد اور شرر گیاوی کی نگرانی میں اور شیخ محمد حسین کے اہتمام سے 4 مارچ 1899ء کو مطبع محمدی، گیا سے 28 صفحات پر شائع کیا گیا۔

    لے کر وہ میرے آئینہ دل کو کیا کرے

    سایہ سے بھی جو اپنے ہمیشہ حیا کرے

    اے چشم تر ہے کس لیے ہر دم تو اشک بار

    منظور کیا تجھے ہے کہ دریا بہا کرے

    بختِ سیہ نے دن کو میرے رات کر دیا

    دیکھیں اب اور شامت تقدیر کیا کرے

    نازک خیالیاں ہیں نہ باریک بینیاں

    مضموں کمر کا یار کے کیوں کر بندھا کرے

    یا ور ہو گر نصب تو کوشش بھی کام آئے

    تقدیر ہو خلاف تو تدبیر کیا کرے

    ہر داغ اپنا آئے نظر ماہ اے قمرؔ

    دل کی طرف جو رخ مرے وہ مہ لقا کرے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے