ملال اس کا نہیں داغِ زیاں آیا تو کیا ہوگا
ملال اس کا نہیں داغِ زیاں آیا تو کیا ہوگا
اگر آئینۂ دل پر نشاں آیا تو کیا ہوگا
نمازِ صبح ہے سجدہ ہے اور مستی کا عالم ہے
تصور میں تمہارا آستاں آیا تو کیا ہوگا
زمانہ جاں نثاروں سے کبھی خالی نہیں ہوتا
کوئی خالد سا پھر مردِ جواں آیا تو کیا ہوگا
مری مجبوریاں بڑھنے نہیں دیتی ہیں قدموں کو
مگر پیغامِ میرِ کارواں آیا تو کیا ہوگا
ابھی شیراز زندہ ہے ابھی بغداد باقی ہے
کہیں پھر سے گروہِ عاشقاں آیا تو کیا ہوگا
بہت پہلے خبر دے دی ہے جس کی میرے آقا نے
وہی شعلہ قریبِ آشیاں آیا تو کیا ہوگا
عجب عالم ہے مستی کا ابھی سے مست و بیخود ہیں
مرا راحت رساں پیرِ مغاں آیا تو کیا ہوگا
خبر میری محبت کی نہیں ہے اہلِ گلشن کو
مری سانسوں میں وہ عنبر فشاں آیا تو کیا ہوگا
قمرؔ غربت کدہ میرے لیے تو ٹھیک ہے لیکن
مرا رشکِ زمین و آسماں آیا تو کیا ہوگا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.