کر گئی ختم اس گلی میں ان کی رعنائی مجھے
کر گئی ختم اس گلی میں ان کی رعنائی مجھے
یہ قیامت دیکھیے جنت میں موت آئی مجھے
باغ میں آئی بہار اور قید میں چمکا جنوں
فصل گل کی تار دامن پر خبر آئی مجھے
جنبش تیغ دودم تھی ہجر میں ہر موج مئے
جام میں تصویر قاتل کے نظر آئی مجھے
جام بھی اس نے دیا مجھ کو تو دستِ غیر سے
آبرو بھی اس کی محفل میں ہے رسوائی مجھے
بام قاتل طور سینا چرخ گرداں عرش حق
مل رہے ہیں غیب سے مضمون بالائی مجھے
شوق میں تا منزل مقصود پہنچا سر کے بل
پاؤں بن کر راہ پر لائی جبیں سائی مجھے
حشر میں بھی مئے پرستی کا اثر یہ تھا قتیلؔ
اہلِ محشر نے پکارا کہہ کے صہبائی مجھے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.