Font by Mehr Nastaliq Web

کر گئی ختم اس گلی میں ان کی رعنائی مجھے

قتیل داناپوری

کر گئی ختم اس گلی میں ان کی رعنائی مجھے

قتیل داناپوری

MORE BYقتیل داناپوری

    کر گئی ختم اس گلی میں ان کی رعنائی مجھے

    یہ قیامت دیکھیے جنت میں موت آئی مجھے

    باغ میں آئی بہار اور قید میں چمکا جنوں

    فصل گل کی تار دامن پر خبر آئی مجھے

    جنبش تیغ دودم تھی ہجر میں ہر موج مئے

    جام میں تصویر قاتل کے نظر آئی مجھے

    جام بھی اس نے دیا مجھ کو تو دستِ غیر سے

    آبرو بھی اس کی محفل میں ہے رسوائی مجھے

    بام قاتل طور سینا چرخ گرداں عرش حق

    مل رہے ہیں غیب سے مضمون بالائی مجھے

    شوق میں تا منزل مقصود پہنچا سر کے بل

    پاؤں بن کر راہ پر لائی جبیں سائی مجھے

    حشر میں بھی مئے پرستی کا اثر یہ تھا قتیلؔ

    اہلِ محشر نے پکارا کہہ کے صہبائی مجھے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے