اللہ ہی اس کا حافظ ہے اب دل کا مداوا مشکل ہے
اللہ ہی اس کا حافظ ہے اب دل کا مداوا مشکل ہے
کس آنکھ سے تم نے دیکھا تھا بیمار کا بچنا مشکل ہے
سیلاب سرشکِ فرقت میں مژگاں کا سہارا مشکل ہے
طوفان میں ٹھہرے تنکوں سے چڑھتا ہوا دریا مشکل ہے
وہ ہیچ مپرسی فرقت کی وہ موت کا آکر پھر جانا
جینا تو شبِ غم آساں ہے عشاق کا مرنا مشکل ہے
اے ضبط دبائے دیتی ہے اب دل میں لہو کی طغیانی
کوزے میں سمٹ کر بندر ہے بہتا ہوا دریا مشکل ہے
یہ فصلِ گل اور ماہ رمضاں اللہ کو مان اے شیخ حرم
دو دن کی جو ہو تو مان بھی لوں یہ ایک مہینا مشکل ہے
کس سے میں کہوں اب کیا میں کروں کس طرح بنے کس طرح نبھے
ہر وقت خفا ہر وقت کھنچے ہر وقت تنے کیا مشکل ہے
ہر تار قتیلؔ ان زلفوں کا اک رشتہ ہے جانِ مضطر کا
رگ رگ میں سما کر بہہ نکلے نشتر پہ یہ سودا مشکل ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.