مار ہی ڈالا مجھے اس نے نگاہِ ناز سے
مار ہی ڈالا مجھے اس نے نگاہِ ناز سے
موت بھی اللہ اکبر آئی کس انداز سے
بزم ساری ہوگئی بے خود تری آواز سے
سوز بر سا کیف بن کر تار ہائے ساز سے
ہٹ نہیں سکتی ہے آنکھ ان کی نگاہِ ناز سے
مرغ دل اپنا لڑاتا ہے نظر شہباز سے
چاہیے دل کے خزانے پر رہے قفل سکوت
چھپ نہیں سکتا اگر واقف ہو کوئی راز سے
آنکھ کیا اس نے ملائی جان میں جان آگئی
کس طرح مردے کو زندہ کر دیا اعجاز سے
قدر جو ہر سے ہوا کرتی ہے بے جوہر نہیں
پر کی قیمت ہے جہاں میں قوتِ پرواز سے
آنکھ لڑتے ہی ہوا ان کی نگاہوں کا اسیر
مل گیا انجام کا اپنے پتہ آغاز سے
اک لب جاں بخش نے کتنوں کو زندہ کر دیا
حور شرماتی ہے جنت میں تری آواز سے
طائرِ دل کا بس اب اللہ حافظ ہے قتیلؔ
لڑ گئی ہے آنکھ اپنی اک قدر انداز سے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.