دور میں ساغر رقص میں مینا گردش میں پیمانہ بھی
دور میں ساغر رقص میں مینا گردش میں پیمانہ بھی
پریاں اتریں شیشوں میں ساقی ،قاف ہوا میخانہ بھی
چشم ساقی ہو جو ادھر ہر چند غلط انداز سہی
چلتا پھرتا ساتھ ہی اس کے آئے کوئی پیمانہ بھی
عکس فقط آنکھوں میں نہیں ساقی کے گلابی چہرے کا
پھول سے ہے اے صلِ علیٰ لبریز مرا پیمانہ بھی
اُف ری وحشت ہجر کی رات آنا تھی نہ آئی نیند مجھے
زلف سیہ کا ناصح نے ہر چند کہا افسانہ بھی
مئے سے لبالب جام نہیں سانچے میں جوانی ڈھلتی ہے
خلد اثر ہے بادہ کشو ٹکسال مرا میخانہ بھی
گیسو و رخ کی الفت میں حیران بھی ہے صد چاک بھی ہے
قلب حزیں عاشق کا تمہارے آئینہ بھی ہے شانہ بھی
عشق کا شعلہ کھیل نہ تھا خود شمع کو بھی جلنا ہی پڑا
رکھتا ہے اک آگ نہاں پہلو میں اک اک پروانہ بھی
دل کی فغاں میں دور نہیں گر شاہد معنی مضمر ہو
سرِ مخفی کہہ جاتا ہے جھک میں کبھی دیوانہ بھی
شمع پہ تیرے سامنے گرنا یہ بھی اک گستاخی ہے
تو بھی گھونگھٹ رخ سے اٹھا تا یاد کرے پروانہ بھی
ہنس کے نقاب اس شوخ نے کیا محفل میں قتیلؔ اتاری ہے
جیبِ سحر میں شمع چھپی کافور ہوا پروانہ بھی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.