رفتہ رفتہ پیراک دن ہر جواں ہونے کو ہے
رفتہ رفتہ پیراک دن ہر جواں ہونے کو ہے
ہے یہی اک تیر جو آخر کماں ہونے کو ہے
اک مسیح عصر میرا میہماں ہونے کو ہے
گھر مرا رشک چہارم آسماں ہونے کو ہے
حسرت دل ہجر میں گرم فغاں ہونے کو ہے
آج اک ویران مسجد میں اذاں ہونے کو ہے
فوت مطلب مرگ حسرت خون دل قطع امید
تو سلامت کیا نہیں اے آسماں ہونے ہونے کو ہے
قتل پر میرے اب آپس میں بھی ہیں سر گوشیاں
راز بن کر جو چھپا تھا داستاں ہونے کو ہے
ہور ہا ہوں عشق ابرو میں پئے قتل انتخاب
عدل میں قاتل مرا نوشیرواں ہونے کو ہے
اب چھپا ئے چھپ بھی سکتا ہے کہیں عشق مژہ
زخم دل میں ٹوٹ کر نشتر زباں ہونے کو ہے
آگ برسانے پر آمادہ ہیں نالے ہجر میں
پھلجھڑی اک روز شاخ آشیاں ہونے کو ہے
دھاک ان کی تیغ ابرو کی ہے روز افزوں قتیلؔ
رفتہ رفتہ کشورِ ہند اصفہاں ہونے کو ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.