Font by Mehr Nastaliq Web

رفتہ رفتہ پیراک دن ہر جواں ہونے کو ہے

قتیل داناپوری

رفتہ رفتہ پیراک دن ہر جواں ہونے کو ہے

قتیل داناپوری

MORE BYقتیل داناپوری

    رفتہ رفتہ پیراک دن ہر جواں ہونے کو ہے

    ہے یہی اک تیر جو آخر کماں ہونے کو ہے

    اک مسیح عصر میرا میہماں ہونے کو ہے

    گھر مرا رشک چہارم آسماں ہونے کو ہے

    حسرت دل ہجر میں گرم فغاں ہونے کو ہے

    آج اک ویران مسجد میں اذاں ہونے کو ہے

    فوت مطلب مرگ حسرت خون دل قطع امید

    تو سلامت کیا نہیں اے آسماں ہونے ہونے کو ہے

    قتل پر میرے اب آپس میں بھی ہیں سر گوشیاں

    راز بن کر جو چھپا تھا داستاں ہونے کو ہے

    ہور ہا ہوں عشق ابرو میں پئے قتل انتخاب

    عدل میں قاتل مرا نوشیرواں ہونے کو ہے

    اب چھپا ئے چھپ بھی سکتا ہے کہیں عشق مژہ

    زخم دل میں ٹوٹ کر نشتر زباں ہونے کو ہے

    آگ برسانے پر آمادہ ہیں نالے ہجر میں

    پھلجھڑی اک روز شاخ آشیاں ہونے کو ہے

    دھاک ان کی تیغ ابرو کی ہے روز افزوں قتیلؔ

    رفتہ رفتہ کشورِ ہند اصفہاں ہونے کو ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے