سینے پہ شب غم آخر کار اک داغ محبت لے کے چلے
سینے پہ شب غم آخر کار اک داغ محبت لے کے چلے
اے ہجر یہ تمغہ الفت کا ہم تیری بدولت لے کے چلے
منکا ہے ڈھلا آنکھوں میں ہے دم تصویر ہے دل پر نقش ان کی
گو ہجر میں گزرے جان سے ہم اک امن کی صورت لےکے چلے
یاں ضعف بصر واں برق جمال آنکھیں خیرہ تصویر آسا
محفل سے تری ارباب طلب دیدار کی حسرت لے کے چلے
اس روئے طلائی کے صدقے ہر داغ وفا ہے سکۂ زر
ہمراہ خزانہ تربت میں ہم دل کی بدولت لے کے چلے
اٹھ بھی نہ سکی بیکار تھی آب اترے بھی تو سوکھے ہی گھاٹ اترے
مقتل سے بھی اسے شمشیر نظر ہم پیاس کی شدّت لے کے چلے
وہ فاتحہ پڑھنے کیا نکلے ہر گام پہ مردے جیتے ہیں
جس سمت چلے یہ خوش قامت ہمراہ قیامت لے کے چلے
اللہ رے تصور نزع میں بھی پھرتا ہے قتیلؔ آنکھوں میں وہ قد
اک حشر مجسم شامل ہے آنکھوں میں قیامت لے کے چلے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.