Font by Mehr Nastaliq Web

سینے پہ شب غم آخر کار اک داغ محبت لے کے چلے

قتیل داناپوری

سینے پہ شب غم آخر کار اک داغ محبت لے کے چلے

قتیل داناپوری

MORE BYقتیل داناپوری

    سینے پہ شب غم آخر کار اک داغ محبت لے کے چلے

    اے ہجر یہ تمغہ الفت کا ہم تیری بدولت لے کے چلے

    منکا ہے ڈھلا آنکھوں میں ہے دم تصویر ہے دل پر نقش ان کی

    گو ہجر میں گزرے جان سے ہم اک امن کی صورت لےکے چلے

    یاں ضعف بصر واں برق جمال آنکھیں خیرہ تصویر آسا

    محفل سے تری ارباب طلب دیدار کی حسرت لے کے چلے

    اس روئے طلائی کے صدقے ہر داغ وفا ہے سکۂ زر

    ہمراہ خزانہ تربت میں ہم دل کی بدولت لے کے چلے

    اٹھ بھی نہ سکی بیکار تھی آب اترے بھی تو سوکھے ہی گھاٹ اترے

    مقتل سے بھی اسے شمشیر نظر ہم پیاس کی شدّت لے کے چلے

    وہ فاتحہ پڑھنے کیا نکلے ہر گام پہ مردے جیتے ہیں

    جس سمت چلے یہ خوش قامت ہمراہ قیامت لے کے چلے

    اللہ رے تصور نزع میں بھی پھرتا ہے قتیلؔ آنکھوں میں وہ قد

    اک حشر مجسم شامل ہے آنکھوں میں قیامت لے کے چلے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے