منکا ہے ڈھلا بشریٰ ہے نڈھال ایک ایک سہارا ٹوٹ گیا
منکا ہے ڈھلا بشریٰ ہے نڈھال ایک ایک سہارا ٹوٹ گیا
یہ حال جو دیکھا ہجر کی شب خود موت کا جی بھی چھوٹ گیا
آنکھیں جو ملائیں ساقی نے لغزش سی ہوئی سنبھلا نہ قدم
ساغر نہ گرا ہاتھوں سے مرے ایک آبلہ دل کا ٹوٹ گیا
سینہ ہے تو چور آنسو ہیں تو خوں دشمن کی بھی دے یہ دکھ نہ خدا
آیا بھی تو غم آتے ہی مرے ہر پارۂ دل کو کوٹ گیا
اک ہوک اٹھی اور اشک بہے اللہ ری مصیبت فرقت کی
یہ دل نہ ہوا اک آبلہ ٹھہرا ٹھیس لگی اور ٹوٹ گیا
خود اک تو فراق اور اس پہ نظر میں گردش چشمِ ساقی کی
تقدیر سبوکش بن کے اک اک ساغر جو چلا وہ پھوٹ گیا
لغزش میں قدم کی جام کا گرنا موت ہے ساقی رندوں کی
یہ عمر کا تھا پیمانہ مرے جو ہاتھ سے گر کر ٹوٹ گیا
دل ہو کہ قتیلؔ جگر ہو مرا زلفوں کے تصور میں نہ بچا
موقع جو ملا تاریکی میں قزاق شب غم لوٹ گیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.