کشتہ ہوں میں جو گیسوئے عنبر نثار کا
کشتہ ہوں میں جو گیسوئے عنبر نثار کا
خوشبو ہے پھول میرے چراغِ مزار کا
دیدار اگرچہ ہو نہ سکا روئے یار کا
دنیا میں نام رہ گیا امیدوار کا
گر جاؤں بھی تو دامنِ مقصد میں جذب ہوں
اشکِ فتادہ ہوں نگہہ اعتبار کا
ابرو جو ہیں کشیدہ تو میلی نگاہ ناز
آنکھوں میں رنگ آگیا دل کے غبار کا
اپنا وجود آپ ہی دشمن ہے وقتِ بد
خطر ہ شکار کو ہے لہو خود شکار کا
داغِ جبین عشق ہے تو ہین نام حسن
ننگ جنوں ہے ہجر میں آنا قرار کا
کھلتا نہیں یہ عشق کمر بھی ہے کیا بلا
اب تو نشان بھی نہیں میرے مزار کا
دبنا تھیں میرے اشکوں سے ان کی کدورتیں
برسات میں محال ہے اٹھنا غبار کا
دشمن کی بھی رسائی ہے بزم نگار تک
جیسے گزر قتیلؔ گلستاں میں خار کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.