Font by Mehr Nastaliq Web

آپ کیوں پریشاں ہیں ہم کو آزمانے میں

راز الہ آبادی

آپ کیوں پریشاں ہیں ہم کو آزمانے میں

راز الہ آبادی

MORE BYراز الہ آبادی

    آپ کیوں پریشاں ہیں ہم کو آزمانے میں

    ہم تو سب سے آگے ہیں بارِ غم اٹھانے میں

    دیر کر نہ اے ساقی اب نظر اٹھانے میں

    میکدہ نہ لٹ جائے جام لب تک آنے میں

    دونوں پاگئے شہرت آج کل زمانے میں

    ہم انہیں بنانے میں وہ ہمیں مٹانے میں

    ہائے میں نے کی توبہ وہ بھی کس زمانے میں

    چا ردن ہی باقی تھے جب بہار آنے میں

    مسجد شکستہ تو چار دن میں بن جائے

    عمر بیت جاتی ہے دل کو دل بنانے میں

    آج ان کی محفل میں ذکر تھا وفاؤں کا

    ہم ہی باوفا نکلے بے وفا زمانے میں

    رات کے اندھیروں سے ہم سفر نہ گھبرانا

    کچھ ہی دیر باقی ہے انقلاب آنے میں

    گردش جہاں آخر تو نے ہم کو سمجھا کیا

    ہم سے ہی زمانہ ہے ہم نہیں زمانے میں

    صرف ایک بار اس نے دل کا حال پوچھا تھا

    عمر کٹ گئی اپنی حالِ غم سنانے میں

    رازؔ دل کا آئینہ احتیاط سے رکھنا

    ورنہ ٹوٹ جائے گا ہر جگہ دکھانے میں

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے