آپ کیوں پریشاں ہیں ہم کو آزمانے میں
آپ کیوں پریشاں ہیں ہم کو آزمانے میں
ہم تو سب سے آگے ہیں بارِ غم اٹھانے میں
دیر کر نہ اے ساقی اب نظر اٹھانے میں
میکدہ نہ لٹ جائے جام لب تک آنے میں
دونوں پاگئے شہرت آج کل زمانے میں
ہم انہیں بنانے میں وہ ہمیں مٹانے میں
ہائے میں نے کی توبہ وہ بھی کس زمانے میں
چا ردن ہی باقی تھے جب بہار آنے میں
مسجد شکستہ تو چار دن میں بن جائے
عمر بیت جاتی ہے دل کو دل بنانے میں
آج ان کی محفل میں ذکر تھا وفاؤں کا
ہم ہی باوفا نکلے بے وفا زمانے میں
رات کے اندھیروں سے ہم سفر نہ گھبرانا
کچھ ہی دیر باقی ہے انقلاب آنے میں
گردش جہاں آخر تو نے ہم کو سمجھا کیا
ہم سے ہی زمانہ ہے ہم نہیں زمانے میں
صرف ایک بار اس نے دل کا حال پوچھا تھا
عمر کٹ گئی اپنی حالِ غم سنانے میں
رازؔ دل کا آئینہ احتیاط سے رکھنا
ورنہ ٹوٹ جائے گا ہر جگہ دکھانے میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.