Font by Mehr Nastaliq Web

راضی ہوں میں جو ظلم کرے یا جفا کرے

راحت لکھنوی

راضی ہوں میں جو ظلم کرے یا جفا کرے

راحت لکھنوی

MORE BYراحت لکھنوی

    دلچسپ معلومات

    یہ غزل گیا کے لٹریری کلب میں 1898ء کے دوران منعقدہ ایک مشاعرے میں پڑھی گئی تھی، اس مشاعرے میں فارسی اور اردو دونوں زبانوں کے مصرعِ طرح دیے گئے تھے، اردو مصرعِ طرح „کیا شکر کوئی نعمت حق کا ادا کرے“ تھا، مشاعرے میں پڑھی گئی غزلوں کو بابو رام پرشاد اور شرر گیاوی کی نگرانی میں اور شیخ محمد حسین کے اہتمام سے 4 مارچ 1899ء کو مطبع محمدی، گیا سے 28 صفحات پر شائع کیا گیا۔

    راضی ہوں میں جو ظلم کرے یا جفا کرے

    پر اپنا مجھ کو عاشقِ صادق کہا کرے

    ایڑی تک ان کے عشق کا پہنچا ہے سلسلہ

    زنجیر کیوں نہ پاؤں میں میرے رہا کرے

    اس درجہ شوقِ دید ہے مد نظر مجھے

    تصویر تیری سامنے میرے رہا کرے

    رکھتے قریبِ خال ہیں وہ زلف اس لیے

    اس دام و دانہ میں دلِ عاشق پھنسا کرے

    دندانِ مصطفیٰ کا تو راحتؔ ہے مدح خواں

    خالق ترے سخن کو دُر بے بہا کرے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے