رفتہ رفتہ جمع آہوں کا دھواں ہو جائے گا
رفتہ رفتہ جمع آہوں کا دھواں ہو جائے گا
اک خدا کا اک ہمارا آسماں ہو جائے گا
دھمگیاں دوں خوفِ عقبیٰ کی تو بت کہتے ہیں صاف
کر لیا یاں کچھ کسی نے کچھ وہاں ہو جائے گا
شوق کہتا ہے ذرا کچھ کان میں جھک کر کہو
دل یہ کہتا ہے نہیں وہ بدگماں ہو جائے گا
سلسلہ تعلیم بندش کا اگر جاری رہا
اے رئیسؔ اپنا الگ اک خانداں ہو جائے گا
- کتاب : ماہنامہ مشورہ، آگرہ (Pg. 398)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.