Font by Mehr Nastaliq Web

یہ کس آشوب جاں کی رہ گزر ہے

راجہ گردھاری پرساد

یہ کس آشوب جاں کی رہ گزر ہے

راجہ گردھاری پرساد

MORE BYراجہ گردھاری پرساد

    یہ کس آشوب جاں کی رہ گزر ہے

    کہ ہر نقش قدم اک چشم تر ہے

    ہمارا حال اب نوع دگر ہے

    ارے ظالم تجھے کچھ بھی خبر ہے

    مجھے اشکو ں سے رسوائی کا ڈر ہے

    مثل ہے گھر کے بھیدی سے خطر ہے

    نہ کیوں جامے سے ہو جاؤں میں باہر

    کہ آج اس بت کے آنے کی خبر ہے

    حباب آسا ہے اپنا دم لبوں پر

    کوئی دم میں ادھر ہے یا ادھر ہے

    وہاں قشقہ ہے صندل کا جبیں پر

    یہاں حسرت کے مارے درد سر ہے

    جگر کو کر رہی ہے تیغ زخمی

    نہیں معلوم یہ کس کی نظر ہے

    جنابِ میر کا پیرو ہوں باقیؔ

    مرے شعر و سخن میں کیا اثر ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے