یہ کس آشوب جاں کی رہ گزر ہے
یہ کس آشوب جاں کی رہ گزر ہے
کہ ہر نقش قدم اک چشم تر ہے
ہمارا حال اب نوع دگر ہے
ارے ظالم تجھے کچھ بھی خبر ہے
مجھے اشکو ں سے رسوائی کا ڈر ہے
مثل ہے گھر کے بھیدی سے خطر ہے
نہ کیوں جامے سے ہو جاؤں میں باہر
کہ آج اس بت کے آنے کی خبر ہے
حباب آسا ہے اپنا دم لبوں پر
کوئی دم میں ادھر ہے یا ادھر ہے
وہاں قشقہ ہے صندل کا جبیں پر
یہاں حسرت کے مارے درد سر ہے
جگر کو کر رہی ہے تیغ زخمی
نہیں معلوم یہ کس کی نظر ہے
جنابِ میر کا پیرو ہوں باقیؔ
مرے شعر و سخن میں کیا اثر ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.