Font by Mehr Nastaliq Web

ہے گلا حاضر خوشی سے تیغ اے خونخوار کھینچ

رمضان علی

ہے گلا حاضر خوشی سے تیغ اے خونخوار کھینچ

رمضان علی

MORE BYرمضان علی

    ہے گلا حاضر خوشی سے تیغ اے خونخوار کھینچ

    وہ نہیں جو سر کو لوں خنجر سے میں زنہار کھینچ

    واہ رے جذب زلیخا مصر تک کنعان سے

    حضرتِ یوسف کو لے آیا سر بازار کھینچ

    پھر وہی فصلِ بہاری ہے وہی ساقی و مئے

    ایک دو دن کی مصیبت اور اے میخوار کھینچ

    حسرت دیدار میں مرجاؤں گا بہرِ خدا

    دیکھ کر مجھ کو نہ تو رخ پر نقاب اے یار کھینچ

    اے دل ناداں رہے باقی نہیں فرہاد و قیس

    کیا لیے جاتا ہے مجھ کو جانبِ کہسار کھینچ

    مانی و بہزاد دکھلانے کو ان کے لے کیے

    میری صورت کی جگہ پر صورت دیوار کھینچ

    خال و خط یا ابروئے خمدار و زلفِ پیچدار

    دل کو لے جاتے ہیں میرے بس یہی دو چار کھینچ

    آسماں جل جائے گا رہتا ہے از حد مجھ کو خوف

    آہ سوزِ دل سے رمضاں ؔیوں نہ تو ہر بار کھینچ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے