ہے گلا حاضر خوشی سے تیغ اے خونخوار کھینچ
ہے گلا حاضر خوشی سے تیغ اے خونخوار کھینچ
وہ نہیں جو سر کو لوں خنجر سے میں زنہار کھینچ
واہ رے جذب زلیخا مصر تک کنعان سے
حضرتِ یوسف کو لے آیا سر بازار کھینچ
پھر وہی فصلِ بہاری ہے وہی ساقی و مئے
ایک دو دن کی مصیبت اور اے میخوار کھینچ
حسرت دیدار میں مرجاؤں گا بہرِ خدا
دیکھ کر مجھ کو نہ تو رخ پر نقاب اے یار کھینچ
اے دل ناداں رہے باقی نہیں فرہاد و قیس
کیا لیے جاتا ہے مجھ کو جانبِ کہسار کھینچ
مانی و بہزاد دکھلانے کو ان کے لے کیے
میری صورت کی جگہ پر صورت دیوار کھینچ
خال و خط یا ابروئے خمدار و زلفِ پیچدار
دل کو لے جاتے ہیں میرے بس یہی دو چار کھینچ
آسماں جل جائے گا رہتا ہے از حد مجھ کو خوف
آہ سوزِ دل سے رمضاں ؔیوں نہ تو ہر بار کھینچ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.