نہ رخ کرے کبھی پھر سوئے گلستاں صیاد
نہ رخ کرے کبھی پھر سوئے گلستاں صیاد
کھلے جو کنج قفس میں مری زباں صیاد
نہ بھول کے بھی لیا نام آشیاں صیاد
عبث تو رہتا ہے ہر لحظہ بدگماں صیاد
ابھی چمن میں تھا یا ہوں اسیر کنج قفس
لیے پھری مری قسمت کہاں کہاں صیاد
مٹایا جیسے گلستاں سے نام بلبل کا
خدا کرے یوں ہی ہو جائے بے نشاں صیاد
بلا سے ذبح ہوں پھر بھی چمن سے منہ نہ پھرے
ہزار بار اگر لے تو امتحاں صیاد
قفس سے توڑ کے بازو رہا کیا مجھ کو
بہت دنوں پہ ہوا بھی جو مہرباں صیاد
بہار آئی ہوا خونِ آرزو دل میں
تڑپ تڑپ کے نکلتی ہے مری جاں صیاد
خدا کے واسطے دم بھر بھی کر رہا ظالم
قفس کی اب نہیں اٹھتی ہیں سختیاں صیاد
تمام عمر اسیر قفس ہے لیک جریحؔ
نہیں ہوا ہے ابھی تک مزا ج داں صیاد
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.