ہر جز و کل کی غایت اولیٰ تم ہی تو ہو
ہر جز و کل کی غایت اولیٰ تم ہی تو ہو
آفاق کی حقیقتِ کبریٰ تم ہی تو ہو
پائی تمہاری وجہ سے محفل نے زندگی
ارض و سما کی جانِ تمنا تم ہی تو ہو
تم لفظ کفن کی روح ہو کون و مکاں کی جان
تخلیق کائنات کا منشا تم ہی تو ہو
منزل تمہاری وہ جسے منزل نہ کہہ سکوں
وقت و مکاں کی قید سے بالا تم ہی تو ہو
جو وقت کی جبیں پہ ہے اک نقشِ جاوداں
تاریخ کی زباں کا وہ دعویٰ تم ہی تو ہو
تم کو بنا کے جھوم اٹھا نازِ کبریا
شہکار فنِ صانع یکتا تم ہی تو ہو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.