Font by Mehr Nastaliq Web

ساقی جو آیا نور کی مینا لیے ہوئے

رضی اکبر

ساقی جو آیا نور کی مینا لیے ہوئے

رضی اکبر

MORE BYرضی اکبر

    ساقی جو آیا نور کی مینا لیے ہوئے

    لپکے نجوم جامِ ثریا لیے ہوئے

    دوڑے سروشِ ساغر طوبیٰ لیے ہوئے

    آئے مسیح و خضر تمنا لیے ہوئے

    ہر جرعۂ شراب تھا کیف ارم لیے

    ایمان نے بڑھ کے آنکھوں پہ نقشِ قدم لیے

    آنچل ہٹا جو رات کا نکلا نگار صبح

    اپنے عروج ناز پہ تھی نو بہار صبح

    تاروں کا رس پئے ہوئے تھی آبشار صبح

    تنویر کی تھی روح کہ تھا سیم زار صبح

    ہر سمت تھا نور رحمت داور بنا ہوا

    تھا ذرہ ذرہ جسم سمن بر بنا ہوا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے