Font by Mehr Nastaliq Web

مزدہ دل سے اٹھا جاتا ہے لطف زندگانی کا

رند لکھنوی

مزدہ دل سے اٹھا جاتا ہے لطف زندگانی کا

رند لکھنوی

MORE BYرند لکھنوی

    مزدہ دل سے اٹھا جاتا ہے لطف زندگانی کا

    مجھے پیری میں یاد آیا ہےجب عالم جوانی کا

    برنگِ فصلِ گل مہمان ہے موسم جوانی کا

    پلا ساقی کوئی ساغر شرابِ ارغوانی کا

    گذشتہ سال تک حسنِ شباب ایسا نہ تھا اس کا

    پھٹا پڑتا ہے جو بن اب یہ عالم ہے جوانی کا

    حقیقت میں وہی ہے قول اب تک میں بھی شاہد ہوں

    سنا تھا ذکر موسیٰ سے جو تیری لن ترانی کا

    تری خلوت سرا جب سے بنایا خانۂ دل کو

    دیا ہےدیدۂ حیراں کو عہدہ پاسبانی کا

    کسی سے وقتِ خواب افسانۂ الفت نہ سننا تم

    اڑا دیتی ہے نیند الٹا اثر ہے اس کہانی کا

    ہنسی سے گالیاں دیتے ہو دو پر مجھ کو یہ ڈر ہے

    غضب ہوگا اگر لپکا پڑے گا بد زبانی کا

    قد بالا دکھانے اپنا وہ گلشن میں جاتے ہیں

    ہوا ہے کاٹنا منظور سروِ بوستانی کا

    رہا افسانۂ عشق و محبت ناتمام اب تک

    کیا ہے خاتمہ بالخیر کس نے اس کہانی کا

    بنی ہے شاخِ گل منبر چمن اک بزم ماتم ہے

    ملا ہے بلبلِ نالاں کو عہدہ روضہ خوانی کا

    جدا ہوتے نہیں ہیں لب سے لب خاموش بیٹھے ہیں

    نتیجہ یہ ہوا حاصل ہمیں شیریں بیانی کا

    دلِ مضطر کو فرقت میں بڑی تسکین ہووے گی

    کمالِ مہر بانی ہے جو چھلا دو نشانی کا

    پس از مدت جو آئی بھی طبیعت تو کہاں آئی

    نہ پہنچے خط جہاں موقع نہ پیغامِ زبانی کا

    عیادت کو وہ آئے تھے مگر ہم غش میں لپٹے تھے

    نہ دیکھی ان کی صورت بھی برا ہونا توانی کا

    ہوئے ہیں دست و پا بیکار رعبِ حسن سے یکسر

    نظر آتا ہے نقشا اور کچھ نہ بہزاد و مانی کا

    اسے حور و پری بتلاتے ہیں جو لوگ انساں ہیں

    کہیں روحِ مجسم بھی لقب ہے میرے جانی کا

    زباں قاصر ہے کیوں کر شکریہ اس کا ادا ہوگا

    عنایت کا توجہ کی نظر کا مہربانی کا

    فراقِ یار میں مذکور مے کا کیا ہے او ساقی

    جلن تیزاب کی ہوتی جو پیتا گھونٹ پانی کا

    گھلا کر میرے جسم زار کو اس کی جدائی میں

    فراقِ یار نے پتلا بنایا نا توانی کا

    جوانی تک مزہ تھا شاعری کا رندؔ سنتے ہو

    بڑھاپا آ گیا گذرا زمانہ شعر خوانی کا

    مأخذ :
    • کتاب : دیوان رند (Pg. 249)
    • Author : سید محمد خان رندؔ
    • مطبع : منشی نول کشور، لکھنؤ (1931)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے