Font by Mehr Nastaliq Web

عاشق نہیں جو شکوۂ جور و جفا کرے

صفدر امام

عاشق نہیں جو شکوۂ جور و جفا کرے

صفدر امام

MORE BYصفدر امام

    دلچسپ معلومات

    یہ غزل گیا کے لٹریری کلب میں 1898ء کے دوران منعقدہ ایک مشاعرے میں پڑھی گئی تھی، اس مشاعرے میں فارسی اور اردو دونوں زبانوں کے مصرعِ طرح دیے گئے تھے، اردو مصرعِ طرح „کیا شکر کوئی نعمت حق کا ادا کرے“ تھا، مشاعرے میں پڑھی گئی غزلوں کو بابو رام پرشاد اور شرر گیاوی کی نگرانی میں اور شیخ محمد حسین کے اہتمام سے 4 مارچ 1899ء کو مطبع محمدی، گیا سے 28 صفحات پر شائع کیا گیا۔

    عاشق نہیں جو شکوۂ جور و جفا کرے

    ہو لاکھ ظلم و جور نہ ہرگز گلہ کرے

    وہ اور ہی تھے دن و زمانے ہی اور تھے

    پیری میں عشق کا کوئی کیا حوصلہ کرے

    دنیا سرائے فانی ہے جو آئے چل بسے

    امید زندگی کی یہاں کوئی کیا کرے

    اندھیر ہے کہ ہو کوئی اس مہ سے ہم کلام

    کوئی شبِ فراق کے تارے گنا کرے

    تیر نگاہ ناز کا نشترؔ تو چبھ گیا

    بانکی ادا نہ ان کی قیامت بپا کرے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے