پت جھڑ میں بہاروں کی فضا ڈھونڈ رہا ہـے
پت جھڑ میں بہاروں کی فضا ڈھونڈ رہا ہـے
پاگل ہـے جو دنیا میں وفا ڈھونڈ رہا ہـے
خود اپنے ہی ہاتھوں سے وہ گھر اپنا جلا کر
اب سر کو چھپانے کی جگہ ڈھونڈ رہا ہـے
کل رات کو یہ شخص ضیا بانٹ رہا تھا
کیوں دن کے اجالے میں دیا ڈھونڈ رہا ہـے
شاید کے ابھی اس پہ زوال آیا ہوا ہـے
جگنو جو اندھیرے میں ضیا ڈھونڈ رہا ہـے
کہتے ہیں کہ ہر جاہ پہ موجود خدا ہـے
یہ سن کے وہ پتھر میں خدا ڈھونڈ رہا ہـے
اس كو تو کبھی مجھ سے محبت ہی نہیں تھی
کیوں آج وہ پھر میرا پتا ڈھونڈ رہا ہـے
کس شہرِ منافق میں یہ تم آ گئے ساغرؔ
اک دوجے کی ہر شخص خطا ڈھونڈ رہا ہـے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.