سجدے ہم کرتے ہیں وہ پاؤں جہاں رکھتے ہیں
سجدے ہم کرتے ہیں وہ پاؤں جہاں رکھتے ہیں
جب تو دعوائے خدائی یہ بتاں رکھتے ہیں
اے فلک تیری عداوت کا کریں کیا شکوہ
اپنے پہلو ہی میں دشمنِ جاں رکھتے ہیں
آپ کے نام کا زیبا ہے جہاں میں سکہ
بے نشان لوگ کہاں نام و نشاں رکھتے ہیں
دوزخ میں جو مرتے ہیں بتوں پر صہباؔ
اہلِ جنت ہوس حور جناں رکھتے ہیں
- کتاب : Farogh-e-Bazm (Pg. 42)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.