Font by Mehr Nastaliq Web

کیوں ہجرِ یار میں نہ قیامت بپا کرے

صمد گیاوی

کیوں ہجرِ یار میں نہ قیامت بپا کرے

صمد گیاوی

MORE BYصمد گیاوی

    دلچسپ معلومات

    یہ غزل گیا کے لٹریری کلب میں 1898ء کے دوران منعقدہ ایک مشاعرے میں پڑھی گئی تھی، اس مشاعرے میں فارسی اور اردو دونوں زبانوں کے مصرعِ طرح دیے گئے تھے، اردو مصرعِ طرح „کیا شکر کوئی نعمت حق کا ادا کرے“ تھا، مشاعرے میں پڑھی گئی غزلوں کو بابو رام پرشاد اور شرر گیاوی کی نگرانی میں اور شیخ محمد حسین کے اہتمام سے 4 مارچ 1899ء کو مطبع محمدی، گیا سے 28 صفحات پر شائع کیا گیا۔

    کیوں ہجرِ یار میں نہ قیامت بپا کرے

    عاشق کے ہاتھ میں جو نہ ہو دل تو کیا کرے

    جائے نہ واں مرا دل نالاں خدا کرے

    ایسا نہ ہو کہ حشر میں محشر بپا کرے

    میں نے کہا کہ جان سے جاتا ہوں جانِ من

    بولا وہ بت کہ ہو بھی تو ایسا خدا کرے

    ہل جائیں لب گلہ میں ہمارے مجال کیا

    جو ظلم و جور چاہے وہ ظالم کیا کرے

    زاہد میرے صنم کو حقارت سے تو نہ دیکھ

    قدرت ذرا بھی ہو تو خدا جانے کیا کرے

    مرقد پہ میرے آ کے یہ بولا وہ رشکِ حور

    اللہ اس غریب کو جنت عطا کرے

    جاتا ہے سوئے گورِ غریباں وہ شوخ آج

    ڈر ہے کہ ٹھوکروں میں نہ محشر بپا کرے

    آئینہ پر غبار مناسب نہیں حضور

    اچھا نہیں ہے کینہ جو دل میں رہا کرے

    ذرہ کو جو بناتا ہے ہم چشم آفتاب

    چاہے اگر وہ بت کو خدا جانے کیا کرے

    اغیار سے یہ لطف و مدارا یہ رسم و راہ

    کچھ تو نگاہ لطف ادھر بھی رہا کرے

    عاشق کا تیرے ہجر میں اب حال غیر ہے

    بیچارہ کیا عجب ہے کہ دم میں قضا کرے

    ہم رند مشربوں سے عبث ہے یہ چھیڑ چھاڑ

    واعظ سے کہہ دو عقل کی اپنے دوا کرے

    تڑپا رہا ہے ہجر مدینہ غلام کو

    قابو میں دل نہیں ہے کہاں جائے کیا کرے

    ہے التجا خدا سے صمدؔ کی بچشم تر

    دشمن ہو یا کہ دوست ہو سب کا بھلا کرے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے