Font by Mehr Nastaliq Web

کس ہجوم نامرادی میں دل ناشاد تھا

ثاقب اکبرآبادی

کس ہجوم نامرادی میں دل ناشاد تھا

ثاقب اکبرآبادی

MORE BYثاقب اکبرآبادی

    کس ہجوم نامرادی میں دل ناشاد تھا

    بیچ میں تھا میں ادھر گلچیں ادھر صیاد تھا

    حشر میں میرا لہو چھپتا تو آخر کس طرح

    آپ بھی بھولے نہ تھے مجھ کو بھی کچھ کچھ یاد تھا

    یوں بدل دیں خوف نے ساری جہاں کی صورتیں

    کھول کر آنکھیں جدھر دیکھا ادھر صیاد تھا

    مأخذ :
    • کتاب : ماہنامہ مشورہ، آگرہ (Pg. 416)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے