Font by Mehr Nastaliq Web

تلخ ہے یہ مگر حقیقت ہے

ثقلین احمد جعفری

تلخ ہے یہ مگر حقیقت ہے

ثقلین احمد جعفری

MORE BYثقلین احمد جعفری

    تلخ ہے یہ مگر حقیقت ہے

    بے ثباتی جہاں کی خصلت ہے

    گھر میں کم اس لیے تو برکت ہے

    سب کے دل میں فقط کدورت ہے

    ہوں گنہگار میں پہ ہے امید

    میرے رب کی وسیع رحمت ہے

    جیتے جی بس شکایتیں لب پر

    بعدِ مردن بڑی حمایت ہے

    ختم کرتی ہے یہ گلے شکوے

    موت بھی رب کی ایک نعمت ہے

    پاس رہ کر تو دوریاں برتیں

    دور رہیے بڑی عنایت ہے

    نفرتوں سے بھرے زمانے میں

    عشق انسان کی ضرورت ہے

    کام اپنا جہاں میں اے سالکؔ

    اپنے انفاس کی حفاظت ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے