تلخ ہے یہ مگر حقیقت ہے
تلخ ہے یہ مگر حقیقت ہے
بے ثباتی جہاں کی خصلت ہے
گھر میں کم اس لیے تو برکت ہے
سب کے دل میں فقط کدورت ہے
ہوں گنہگار میں پہ ہے امید
میرے رب کی وسیع رحمت ہے
جیتے جی بس شکایتیں لب پر
بعدِ مردن بڑی حمایت ہے
ختم کرتی ہے یہ گلے شکوے
موت بھی رب کی ایک نعمت ہے
پاس رہ کر تو دوریاں برتیں
دور رہیے بڑی عنایت ہے
نفرتوں سے بھرے زمانے میں
عشق انسان کی ضرورت ہے
کام اپنا جہاں میں اے سالکؔ
اپنے انفاس کی حفاظت ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.