دے کے بندوں کو وہ آزار کدھر جاتے ہیں؟
دے کے بندوں کو وہ آزار کدھر جاتے ہیں
ہر برس شیخ جی اللہ کے گھر جاتے ہیں
بخش کر اپنے مواعظ کا اثر جاتے ہیں
دارِ فانی سے سبھی اہلِ نظر جاتے ہیں
اپنی تکلیف بتاتے ہیں تو خالق کو فقط
در پہ دنیا کے کہاں نیک سیر جاتے ہیں
اپنے احباب و اعزا کی معیت ہو اگر
زخم کیسے بھی ہوں کچھ روز میں بھر جاتے ہیں
تھے جو اک دور میں آوازۂ حق کے حامی
رخ ہوا کا ہے جدھر آج ادھر جاتے ہیں
اپنے کردار کو پہلے ہی سنوارو سالکؔ
زخم کھا کر تو سبھی لوگ سدھر جاتے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.