Font by Mehr Nastaliq Web

دے کے بندوں کو وہ آزار کدھر جاتے ہیں؟

ثقلین احمد جعفری

دے کے بندوں کو وہ آزار کدھر جاتے ہیں؟

ثقلین احمد جعفری

MORE BYثقلین احمد جعفری

    دے کے بندوں کو وہ آزار کدھر جاتے ہیں

    ہر برس شیخ جی اللہ کے گھر جاتے ہیں

    بخش کر اپنے مواعظ کا اثر جاتے ہیں

    دارِ فانی سے سبھی اہلِ نظر جاتے ہیں

    اپنی تکلیف بتاتے ہیں تو خالق کو فقط

    در پہ دنیا کے کہاں نیک سیر جاتے ہیں

    اپنے احباب و اعزا کی معیت ہو اگر

    زخم کیسے بھی ہوں کچھ روز میں بھر جاتے ہیں

    تھے جو اک دور میں آوازۂ حق کے حامی

    رخ ہوا کا ہے جدھر آج ادھر جاتے ہیں

    اپنے کردار کو پہلے ہی سنوارو سالکؔ

    زخم کھا کر تو سبھی لوگ سدھر جاتے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے