جس کا دنیا میں ہے جگر مضبوط
جس کا دنیا میں ہے جگر مضبوط
اس کا ہر جا کا ہے سفر مضبوط
ان کو اپنوں پہ کم بھروسہ ہے
ہے بہت غیر پر مگر مضبوط
بے نشانی کے درس دے کے ہمیں
ہوگیا وہ تو نامور مضبوط
باخبر وسوسوں کے طوفاں سے
ہوگا وہ گھوم گھوم کر مضبوط
نفس پر دھیان گر نہ دے انساں
بن بھی سکتا ہے جانور مضبوط
مضمحل تو بہت ہے اے سالکؔ
یا علی کہہ کے کر جگر مضبوط
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.