Font by Mehr Nastaliq Web

جس کا دنیا میں ہے جگر مضبوط

ثقلین احمد جعفری

جس کا دنیا میں ہے جگر مضبوط

ثقلین احمد جعفری

MORE BYثقلین احمد جعفری

    جس کا دنیا میں ہے جگر مضبوط

    اس کا ہر جا کا ہے سفر مضبوط

    ان کو اپنوں پہ کم بھروسہ ہے

    ہے بہت غیر پر مگر مضبوط

    بے نشانی کے درس دے کے ہمیں

    ہوگیا وہ تو نامور مضبوط

    باخبر وسوسوں کے طوفاں سے

    ہوگا وہ گھوم گھوم کر مضبوط

    نفس پر دھیان گر نہ دے انساں

    بن بھی سکتا ہے جانور مضبوط

    مضمحل تو بہت ہے اے سالکؔ

    یا علی کہہ کے کر جگر مضبوط

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے