اظہار فریب تشنہ بھی اربابِ جنوں کا کام نہیں
اظہار فریب تشنہ بھی اربابِ جنوں کا کام نہیں
افسانۂ شام فرقت کا آغاز تو ہے انجام نہیں
مدت سے نقابِ جلوہ پر پابندی خاص و عام نہیں
تخریبِ نظام عالم کا اب آپ کے سر الزام نہیں
الزامِ خطائے جوشِ جنوں پھر کیا ہے اگر الزام نہیں
کہنے میں ہمارے صبح نہیں قبضہ میں ہماری شام نہیں
آسودۂ منزل ہونے تک کیا جانیے دل پر کیا گزرے
امیدِ طلوع صبح تو ہے امکانِ فراغِ شام نہیں
کیا قہر ہے میری نظروں کو ترغیبِ تماشا دیتے ہیں
وہ جن کے مقابل ہو جانا ہر ایک نظر کا کام نہیں
مایوسِ مذاقِ ضبط نہ ہو اے بخت کی فتنہ سامانی
دنیا میں مری ناکامی سے کیا ان کی نظر بدنام نہیں
مطلوب تماشا نظروں سے رودادِ حضور حسن نہ پوچھ
مجبور ہیں گو مجبور نہیں ناکام ہیں گو ناکام نہیں
دنیا کی جفائے پیہم سے جو پائے سکوں مایوس نہ ہو
دامانِ طلب پھیلا دینا شایان دلِ ناکام نہیں
اک درد بھرے دل کی شاداںؔ آواز ہے میری شعر نہیں
اربابِ سخن ادراک کریں احساس ہے یہ الہام نہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.