مجھ سے جو مقابل ہوا وہ پردہ نشیں آج
مجھ سے جو مقابل ہوا وہ پردہ نشیں آج
ہستی تھی مری وہم ہوا مجھ کو یقیں آج
دل میں ہے خیالِ رخِ زیبا ئے حسیں آج
کیا برج شرف میں ہے عیاں مہرمبیں آج
مدت پہ نصیبا یہ اجالا ہوا گھر کا
مہماں جو ہے وہ رشک قمر ماہ جبیں آج
اس شوخ کا ہے وعدۂ دیدار قیامت
افسوس کہ جاتی ہے چلی جان حزیں آج
چمکا ہے مگر اختر تقدیر کسی کا
افشاں سے جو ہے چرخ ثوابت حسیں آج
صد شکر کہ میں منزل مقصود کو پہنچا
جس جا پہ وہ محبوب ہے آیا ہوں وہیں آج
دوری سے اب اس ہند میں بیتاب ہے انورؔ
پاس اپنے مدینہ میں بلا لو شہ دیں آج
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.