Font by Mehr Nastaliq Web

مجھ سے جو مقابل ہوا وہ پردہ نشیں آج

شاہ عبدالعظیم داناپوری

مجھ سے جو مقابل ہوا وہ پردہ نشیں آج

شاہ عبدالعظیم داناپوری

MORE BYشاہ عبدالعظیم داناپوری

    مجھ سے جو مقابل ہوا وہ پردہ نشیں آج

    ہستی تھی مری وہم ہوا مجھ کو یقیں آج

    دل میں ہے خیالِ رخِ زیبا ئے حسیں آج

    کیا برج شرف میں ہے عیاں مہرمبیں آج

    مدت پہ نصیبا یہ اجالا ہوا گھر کا

    مہماں جو ہے وہ رشک قمر ماہ جبیں آج

    اس شوخ کا ہے وعدۂ دیدار قیامت

    افسوس کہ جاتی ہے چلی جان حزیں آج

    چمکا ہے مگر اختر تقدیر کسی کا

    افشاں سے جو ہے چرخ ثوابت حسیں آج

    صد شکر کہ میں منزل مقصود کو پہنچا

    جس جا پہ وہ محبوب ہے آیا ہوں وہیں آج

    دوری سے اب اس ہند میں بیتاب ہے انورؔ

    پاس اپنے مدینہ میں بلا لو شہ دیں آج

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے