Font by Mehr Nastaliq Web

اے جنوں لے چل مجھے سیرِ بیا باں کے لیے

شاہ امین الدین قیصر

اے جنوں لے چل مجھے سیرِ بیا باں کے لیے

شاہ امین الدین قیصر

MORE BYشاہ امین الدین قیصر

    اے جنوں لے چل مجھے سیرِ بیا باں کے لیے

    تلوے کھجلاتے ہیں پھر خارِ مغیلاں کے لیے

    حق نے ختم المرسلین روزِ ازل سے کردیا

    قطع یہ جامہ ہوا شاہِ رسولاں کے لیے

    اے فلک بجلی تو کیا میں ان گنہگاروں میں ہوں

    آگ برسے گر دعا مانگوں میں باراں کے لیے

    اے جنوں گل رنگ کر دے شوق سے کیا خوف ہے

    سر مرا پیدا ہوا ہے سنگِ طفلاں کے لیے

    کیا مسیحائی سے باز آئیں گے میرے واسطے

    کیوں نہیں آتے علاجِ دردِ ہجراں کے لیے

    بعد مردن بھی پھریں گے ہم بگولے کی طرح

    خاک بن کر جستجوئے کوئے جاناں کے لیے

    تارِ مژگاں میں پرو کر دانہ ہائے اشک کو

    استخارہ دیکھتا ہوں وصلِ جاناں کے لیے

    بعد مردن قیصرِؔ عاصی جنابِ مصطفیٰ

    آئیں گے مرقد میں امدادِ غریباں کے لیے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے