اے جنوں لے چل مجھے سیرِ بیا باں کے لیے
اے جنوں لے چل مجھے سیرِ بیا باں کے لیے
تلوے کھجلاتے ہیں پھر خارِ مغیلاں کے لیے
حق نے ختم المرسلین روزِ ازل سے کردیا
قطع یہ جامہ ہوا شاہِ رسولاں کے لیے
اے فلک بجلی تو کیا میں ان گنہگاروں میں ہوں
آگ برسے گر دعا مانگوں میں باراں کے لیے
اے جنوں گل رنگ کر دے شوق سے کیا خوف ہے
سر مرا پیدا ہوا ہے سنگِ طفلاں کے لیے
کیا مسیحائی سے باز آئیں گے میرے واسطے
کیوں نہیں آتے علاجِ دردِ ہجراں کے لیے
بعد مردن بھی پھریں گے ہم بگولے کی طرح
خاک بن کر جستجوئے کوئے جاناں کے لیے
تارِ مژگاں میں پرو کر دانہ ہائے اشک کو
استخارہ دیکھتا ہوں وصلِ جاناں کے لیے
بعد مردن قیصرِؔ عاصی جنابِ مصطفیٰ
آئیں گے مرقد میں امدادِ غریباں کے لیے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.