اہلِ دل عشق میں کیا کہیے کہاں تک پہنچے
اہلِ دل عشق میں کیا کہیے کہاں تک پہنچے
ہم گنہگار فقط آہ و فغاں تک پہنچے
ذوق پرواز کی رفعت تو کوئی دیکھے ذرا
میں کچھ آگے ہی گیا وہم جہاں تک پہنچے
کششِ شوق میں وہ جذب تھا اللہ اللہ
سیر کرتے ہوئے ہم حدِّ مکاں تک پہنچے
اے بتو! رہ لیے ہم ایک پجاری بن کر
ان کے عشاق نہ معلوم کہاں تک پہنچے
کنج مرقد میں ترا فضل و کرم ہو یا رب
ہم تو کاندھوں پہ ہزاروں کے یہاں تک پہنچے
فکر کرتے ہوئے ہر چند زمانہ گذرا
آج تک شاہؔ نہ تم حسنِ بیاں تک پہنچے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.