Font by Mehr Nastaliq Web

اہلِ دل عشق میں کیا کہیے کہاں تک پہنچے

شاہ عظیم آبادی

اہلِ دل عشق میں کیا کہیے کہاں تک پہنچے

شاہ عظیم آبادی

MORE BYشاہ عظیم آبادی

    اہلِ دل عشق میں کیا کہیے کہاں تک پہنچے

    ہم گنہگار فقط آہ و فغاں تک پہنچے

    ذوق پرواز کی رفعت تو کوئی دیکھے ذرا

    میں کچھ آگے ہی گیا وہم جہاں تک پہنچے

    کششِ شوق میں وہ جذب تھا اللہ اللہ

    سیر کرتے ہوئے ہم حدِّ مکاں تک پہنچے

    اے بتو! رہ لیے ہم ایک پجاری بن کر

    ان کے عشاق نہ معلوم کہاں تک پہنچے

    کنج مرقد میں ترا فضل و کرم ہو یا رب

    ہم تو کاندھوں پہ ہزاروں کے یہاں تک پہنچے

    فکر کرتے ہوئے ہر چند زمانہ گذرا

    آج تک شاہؔ نہ تم حسنِ بیاں تک پہنچے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے