کھلی جو آنکھ تو دیکھا نہ آشیاں صیاد
کھلی جو آنکھ تو دیکھا نہ آشیاں صیاد
قفس کو اپنے میں سمجھا کیا مکاں صیاد
اٹھا یہ سوز دروں کا مرے دھواں صیاد
کہ میرے سر پہ بنا ایک سائباں صیاد
قفس کو پھونک دوں اک دم میں میں اگر چاہوں
وہ سوز عشق ہے دل میں مرے نہاں صیاد
وہ عندلیب ہوں نا آشنا ہوں گل سے ہنوز
نہ آشیاں کبھی دیکھا نہ بوستاں صیاد
جہاں تلک ترا جی چاہے تو ستا لے مجھے
کہ پالیا ہے مجھے تونے بےزباں صیاد
کہیں نہ چین ملا واہ رے نصیب کے پھیر
جہاں جہاں میں گیا لایا دام واں صیاد
وہ عندلیب ہوں آباد جس سے گلشن ہے
اڑے گا بعد مرے رنگ بوستاں صیاد
چمن میں آکے بھی دیکھا نہ حیف اس گل کو
بنے ہیں جس کے لیے باغ بوستاں صیاد
کہاں سے آکے پھنسا میں قفس میں وائے نصیب
مکان اپنا تھا اک روز لامکاں صیاد
بنے گی کیسے طبیعت ہے مختلف عرفاںؔ
کہ میں ہوں مرغ نوا سنج بے زباں صیاد
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.