جفائیں جب تری اے غیرت گل یاد کرتے ہیں
جفائیں جب تری اے غیرت گل یاد کرتے ہیں
برنگ بلبل نا شادہم فریاد کرتے ہیں
مزے ہم وصل کے فرقت میں اے جاں یاد کرتے ہیں
کسی ڈھب سے دلِ آفت زدہ کو شاد کرتے ہیں
ہمیں وہ وصل سے خوش ہجر سے ناشاد کرتے ہیں
کبھی وہ رحم کرتے ہیں کبھی بیداد کرتے ہیں
رہا کرتی ہے تصویر خیالی رو برو تیری
تصور اپنے کارِ مانی و بہزاد کرتے ہیں
دعا ہی مانگتے ہجر صنم میں رات کٹتی ہے
بتوں کے شوق میں شب بھر خدا کی یاد کرتے ہیں
ادا سے قتل کرتے ہیں مسیحائی دکھا تے ہیں
کرم کرتے ہیں خود ہی خود ستم ایجاد کرتے ہیں
وصال گل کا وعدہ ہے قفس سے چھوٹ جانے پر
ہمیں اب دیکھیے کب تک رہا صیاد کرتے ہیں
عبث چشم وفار کھتے ہیں پیر چرخ دور اں سے
کہیں بچے بھی پیدا بیضۂ فولاد کرتے ہیں
لب گور غریباں سے صدا آتی ہے مردوں کی
کہ بستی ہے یہ اجڑی ہم اسے آباد کرتے ہیں
پڑی ہیں طوق قمری کی طرح کس کس کی گردن میں
غلامی قد کی تیری سرو اور شمشاد کرتے ہیں
مری وحشت کی شہرت اس قدر شائع ہوئی عرفاںؔ
کہ میرا ذکر اکثر قیس اور فرہاد کرتے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.