Font by Mehr Nastaliq Web

جوں قدم یار نے گھر سے مرے در پر رکھے

شاہ کمال الدین حسین

جوں قدم یار نے گھر سے مرے در پر رکھے

شاہ کمال الدین حسین

MORE BYشاہ کمال الدین حسین

    جوں قدم یار نے گھر سے مرے در پر رکھے

    سر رکھا زانو پہ میں ہاتھ جگر پر رکھا

    ہم کو صیاد نے رکھا جو قفس میں تو آہ

    دست شفقت کبھی ظالم نے نہ سر پر رکھا

    سنگ رہ اس کی گلی کا جو کوئی ہاتھ آیا

    مثلِ گل میں نے اٹھا کر اسے سر پر رکھا

    بیٹھے بیٹھے تجھے کون آگیا یاد آج کمالؔ

    تونے رومال جو لے دیدۂ تر پر رکھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے