مت غضب کر چھوڑ دے غصا سجن
مت غضب کر چھوڑ دے غصا سجن
آ جدائی خوب نہیں مل جا سجن
بے دلوں کی عذر خواہی مان لے
جو کہ ہونا تھا سو ہو گذرا سجن
تم سوا ہم کوں کہیں جاگہ نہیں
پس لڑو مت ہم سیتی بے جا سجن
مر گئے غم سیں تمہارے ہم پیا
کب تلک یہ خون غم کھانا سجن
جو لگے اب کاٹنے اخلاص کے
کیا یہی تھا پیار کا ثمرا سجن
چھوڑ تم کوں اور کس سیں ہم ملیں
کون ہے دنیا میں کوئی تم سا سجن
پاؤں پڑتا ہوں تمہارے رحم کو
بات میری مان لے ہا ہا سجن
ننگ رہنا کب تلک غنچے کی طرح
پھول کے مانند ٹک کھل جا سجن
آبروؔ کوں کھو کے پچھتاؤ گے تم
ہم کوں لازم ہے اتا کہنا سجن
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.