Font by Mehr Nastaliq Web

گناہ گاروں کی عذر خواہی ہمارے صاحب قبول کیجے

شاہ مبارک آبرو

گناہ گاروں کی عذر خواہی ہمارے صاحب قبول کیجے

شاہ مبارک آبرو

MORE BYشاہ مبارک آبرو

    گناہ گاروں کی عذر خواہی ہمارے صاحب قبول کیجے

    کرم تمہارے کی کر توقع یہ عرض کیتے ہیں مان لیجے

    غریب عاجز جفا کے مارے فقیر بے کس گدا تمہارے

    سوویں ستم سیں مریں بچارے اگر جوان پر کرم نہ کیجے

    پڑے ہیں ہم بیچ میں بلا کے کرم کرو واسطے خدا کے

    ہوئے ہیں بندے تری رضا کے جو کچھ کے حق میں ہمارے کیجے

    بپت پڑی ہے جنہوں پے غم کی جگر میں آتش لگی الم کی

    کہاں ہے طاقت انہیں ستم کی کہ جن پہ ایتا عتاب کیجے

    ہمارے دل پے جو کچھ کہ گذرا تمہارے دل پر اگر ہو ظاہر

    تو کچھ عجب نہیں پتھر کی مانند اگر یتھا دل کی سن پسیجے

    اگر گنہ بھی جو کچھ ہوا ہے کہ جس سیں ایتا ضرر ہوا ہے

    تو ہم سیں وہ بے خبر ہوا ہے دلوں سیں اس کوں بھلائے دیجے

    ہوئے ہیں ہم آبروؔ نشانے لگے ہیں طعنے کے تیر کھانے

    ترا برا ہوا رے زمانے بتا تو اس طرح کیوں کہ جیجے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے