پھرتے تھے دشت دشت دوانے کدھر گئے
پھرتے تھے دشت دشت دوانے کدھر گئے
وے عاشقی کے ہائے زمانے کدھر گئے
مژگاں تو تیز تر ہیں ولیکن جگر کہاں
ترکش تو سب بھرے ہیں نشانے کدھر گئے
کہتے تھے ہم کوں اب نہ ملیں گے کسی کے ساتھ
عاشق کے دل کوں پھر کے ستانے کدھر گئے
جاتے رہے پے نانو بتایا نہ کچھ مجھے
پوچھوں میں کس طرح کہ فلانے کدھر گئے
اب روبرو ہے یار نہیں بولتا سو کیوں
قصے وہ آبروؔ کے بنانے کدھر گئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.