Font by Mehr Nastaliq Web

جس کے ہم مارے ہوئے ہیں وہ ستمگر اور ہے

شاہ طالب حسین مجیب

جس کے ہم مارے ہوئے ہیں وہ ستمگر اور ہے

شاہ طالب حسین مجیب

MORE BYشاہ طالب حسین مجیب

    جس کے ہم مارے ہوئے ہیں وہ ستمگر اور ہے

    زخم ہے جس کا رگ جاں میں وہ نشتر اور ہے

    ڈھونڈتا ہے جس کو دل وہ سلک گوہر اور ہے

    ہیں دو عالم جس کی موجیں وہ سمندر اور ہے

    اہل دنیا کے لیے دیر و حرم ہیں اے مجیبؔ

    عاشقوں کے واسطے اللہ کا گھر اور ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے