شمع رو کیوں نہ ہوں نازاں مرے جل جانے سے
شمع رو کیوں نہ ہوں نازاں مرے جل جانے سے
سوزشِ عشق میں افزوں ہوں میں پروانے سے
دلِ عاشق پہ قدم رکھیے نہ یوں وقت خرام
ٹوٹ جائے نہ یہ شیشہ کہیں ٹکرانے سے
اک پری زاد کا جب سے میں ہوا دیوانہ
کام رکھتا ہوں نہ اپنے سے نہ بیگانے سے
اس کی دین اور ہے جب دین پر آ جاتا ہے
سیکڑوں دانے خدا دیتا ہے اک دانے سے
ہوگیا ہے دل صد چاک مرا اس میں اسیر
زلف خمدار کو سلجھاؤ نہ اب شانے سے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.