عشق بت میں نظر آتی ہے مجھے شانِ خدا
عشق بت میں نظر آتی ہے مجھے شانِ خدا
میں سرکنے کا نہیں اب کبھی بت خانے سے
کھینچتا ہے ہر طرف کوچۂ قاتل مجھ کو
دل بیتاب سمجھتا نہیں سمجھانے سے
دیر سے لایا خدا مجھ کو ترے کوچہ میں
پہنچا میں کعبہ مقصود کو بت خانے سے
جب سے رہتا ہے ترے دست حنائی کا خیال
مہلت اک دم کی نہیں خونِ جگر کھانے سے
دل سو دازدہ سے چھیڑ نہیں اچھی کمالؔ
دیکھو ہشیار الجھتے نہیں دیوانے سے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.