Font by Mehr Nastaliq Web

عشق بت میں نظر آتی ہے مجھے شانِ خدا

شیخ کمال احمد

عشق بت میں نظر آتی ہے مجھے شانِ خدا

شیخ کمال احمد

MORE BYشیخ کمال احمد

    عشق بت میں نظر آتی ہے مجھے شانِ خدا

    میں سرکنے کا نہیں اب کبھی بت خانے سے

    کھینچتا ہے ہر طرف کوچۂ قاتل مجھ کو

    دل بیتاب سمجھتا نہیں سمجھانے سے

    دیر سے لایا خدا مجھ کو ترے کوچہ میں

    پہنچا میں کعبہ مقصود کو بت خانے سے

    جب سے رہتا ہے ترے دست حنائی کا خیال

    مہلت اک دم کی نہیں خونِ جگر کھانے سے

    دل سو دازدہ سے چھیڑ نہیں اچھی کمالؔ

    دیکھو ہشیار الجھتے نہیں دیوانے سے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے