فریبِ عشق سے فی الجملہ آشنا ہوں میں
فریبِ عشق سے فی الجملہ آشنا ہوں میں
خطا معاف اب اپنا ہی مدعا ہوں میں
نہ تاب شکر نہ اب طاقتِ فغاں باقی
مجھے نہ چھیڑ کہ اک ساز بے صدا ہوں میں
یہ راز جذبۂ خود رفتگی نہ رسوا کر
کہ اپنی آڑ میں اب ان کو ڈھونڈتا ہوں میں
سکونِ بے خبری حد سے بڑھ جائے نہ شامؔ
جنونِ عشق کو پھر آج چھیڑتا ہوں میں
- کتاب : ماہنامہ مشورہ، آگرہ (Pg. 461)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.