Font by Mehr Nastaliq Web

فریبِ عشق سے فی الجملہ آشنا ہوں میں

شام اکبرآبادی

فریبِ عشق سے فی الجملہ آشنا ہوں میں

شام اکبرآبادی

MORE BYشام اکبرآبادی

    فریبِ عشق سے فی الجملہ آشنا ہوں میں

    خطا معاف اب اپنا ہی مدعا ہوں میں

    نہ تاب شکر نہ اب طاقتِ فغاں باقی

    مجھے نہ چھیڑ کہ اک ساز بے صدا ہوں میں

    یہ راز جذبۂ خود رفتگی نہ رسوا کر

    کہ اپنی آڑ میں اب ان کو ڈھونڈتا ہوں میں

    سکونِ بے خبری حد سے بڑھ جائے نہ شامؔ

    جنونِ عشق کو پھر آج چھیڑتا ہوں میں

    مأخذ :
    • کتاب : ماہنامہ مشورہ، آگرہ (Pg. 461)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے