Font by Mehr Nastaliq Web

دور اتنا آپ کو مجھ سے نہ اے خونخوار کھینچ

شرافت کریم

دور اتنا آپ کو مجھ سے نہ اے خونخوار کھینچ

شرافت کریم

MORE BYشرافت کریم

    دور اتنا آپ کو مجھ سے نہ اے خونخوار کھینچ

    میں ہوں سر دینے کے کو حاضر شوق سے تلوار کھینچ

    راست گو ہوں عاشقِ صادق ترا الحق ہوں میں

    دار پر منصور کی صورت مجھے اے یار کھینچ

    آئی پھر فصل بہاری پھر جنوں کا جوش ہے

    وحشت دل لے چلی پھر جانب کہسار کھینچ

    ساتھ ہی اس کے نکل آئے گی میری جان زار

    میرے سینہ سے نہ اے جراح تو سو فار کھینچ

    کچھ تو لینے دے پناہ آفت زدہ عشاق کو

    اپنا سایہ دور اتنا تو نہ اے دیوار کھینچ

    اے زلیخا ہے یہ آداب محبت سے بعید

    شہر کنعاں سے نہ یوسف کو سرِ بازار کھینچ

    دشمن دیں بے طرح احمدؔ کا ہے نفس لعیں

    ذوالفقار اپنی خدا را حیدر کرار کھینچ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے