Font by Mehr Nastaliq Web

آیا جو ہمارے یہاں وہ ماہ جبیں آج

شرافت کریم

آیا جو ہمارے یہاں وہ ماہ جبیں آج

شرافت کریم

MORE BYشرافت کریم

    آیا جو ہمارے یہاں وہ ماہ جبیں آج

    ہے نور سے معمور مرے گھر کی زمیں آج

    یا آکے ملے مجھ سے مرا ماہ جبیں آج

    یا آسماں کردے مجھے پیوند زمیں آج

    دل سے مرے نالہ جو نکل آئے کہیں آج

    ہل جائے ابھی کنگرۂ عرش بریں آج

    ہوتے ہیں وہ ہر بات پہ کیوں چیں بچیں آج

    بہکایا تو اغیاروں نے پھر ان کو نہیں آج

    تاثیر جو دکھلائے مری آہ کہیں آج

    پردہ سے نکل آئے ابھی پردہ نشیں آج

    میں درد جدائی سے تھا مرنے کے قریں آج

    پاتے نہ کبھی مجھ کو جو تم آتے نہیں آج

    کیا غم تمہیں احمدؔ ہے جو بیٹھے ہو حزیں آج

    اس بت کا خیال آگیا پھر تو نہ کہیں آج

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے