دیکھ کر بے خواب مجھ کو گفتگو تاروں میں ہے
دیکھ کر بے خواب مجھ کو گفتگو تاروں میں ہے
ایک مشت خاک بھی ہم جیسے بیداروں میں ہے
کیا کریں الفت میں جائز ہے نہیں دم مارنا
حرف بے آواز نالہ ان کے بیماروں میں ہے
ثابت و سیار طے کرتے ہیں سب راہ فنا
شمع بھی اپنی جگہ پر گرم رفتاروں میں ہے
قید الفت دیکھیے صحرا نوردی دیکھیے
شوخؔ آزادی محبت کی گرفتاروں میں ہے
- کتاب : ماہنامہ مشورہ، آگرہ (Pg. 434)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.