Font by Mehr Nastaliq Web

دیکھ کر بے خواب مجھ کو گفتگو تاروں میں ہے

شوخ اکبرآبادی

دیکھ کر بے خواب مجھ کو گفتگو تاروں میں ہے

شوخ اکبرآبادی

MORE BYشوخ اکبرآبادی

    دیکھ کر بے خواب مجھ کو گفتگو تاروں میں ہے

    ایک مشت خاک بھی ہم جیسے بیداروں میں ہے

    کیا کریں الفت میں جائز ہے نہیں دم مارنا

    حرف بے آواز نالہ ان کے بیماروں میں ہے

    ثابت و سیار طے کرتے ہیں سب راہ فنا

    شمع بھی اپنی جگہ پر گرم رفتاروں میں ہے

    قید الفت دیکھیے صحرا نوردی دیکھیے

    شوخؔ آزادی محبت کی گرفتاروں میں ہے

    مأخذ :
    • کتاب : ماہنامہ مشورہ، آگرہ (Pg. 434)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے