میری جان تو نہ اگر جان سے بڑھ کر ہو جائے
میری جان تو نہ اگر جان سے بڑھ کر ہو جائے
تیرا پیکاں مجھے کیوں دل کے برابر ہو جائے
ہو جہاں بوئے وفا سمجھیں وہ مدفن میرا
جب زمیں گور غریباں کی برابر ہو جائے
ان سے کچھ کہنے کی ہمت ہی نہیں اور جو کہوں
جو تمنا ہو وہی حرف مقدر ہو جائے
اضطراب دلِ بیتاب الٰہی توبہ
جس پہ آ جائے یہ کمبخت وہ مضطر ہو جائے
اس کی قسمت جسے تو آنکھ اٹھا کر دیکھے
اس کی تقدیر جو بیکس ترا منظر ہو جائے
نزع میں آؤ اشاروں میں ہی باتیں کر لیں
صحبتِ راز و نیاز اب تو گھڑی بھر ہو جائے
- کتاب : ماہنامہ مشورہ، آگرہ (Pg. 435)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.