Font by Mehr Nastaliq Web

میری جان تو نہ اگر جان سے بڑھ کر ہو جائے

شوخ اکبرآبادی

میری جان تو نہ اگر جان سے بڑھ کر ہو جائے

شوخ اکبرآبادی

MORE BYشوخ اکبرآبادی

    میری جان تو نہ اگر جان سے بڑھ کر ہو جائے

    تیرا پیکاں مجھے کیوں دل کے برابر ہو جائے

    ہو جہاں بوئے وفا سمجھیں وہ مدفن میرا

    جب زمیں گور غریباں کی برابر ہو جائے

    ان سے کچھ کہنے کی ہمت ہی نہیں اور جو کہوں

    جو تمنا ہو وہی حرف مقدر ہو جائے

    اضطراب دلِ بیتاب الٰہی توبہ

    جس پہ آ جائے یہ کمبخت وہ مضطر ہو جائے

    اس کی قسمت جسے تو آنکھ اٹھا کر دیکھے

    اس کی تقدیر جو بیکس ترا منظر ہو جائے

    نزع میں آؤ اشاروں میں ہی باتیں کر لیں

    صحبتِ راز و نیاز اب تو گھڑی بھر ہو جائے

    مأخذ :
    • کتاب : ماہنامہ مشورہ، آگرہ (Pg. 435)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے