Font by Mehr Nastaliq Web

کوئی تسکین کی شکل اے دل مہجور نہیں

شوخ اکبرآبادی

کوئی تسکین کی شکل اے دل مہجور نہیں

شوخ اکبرآبادی

MORE BYشوخ اکبرآبادی

    کوئی تسکین کی شکل اے دل مہجور نہیں

    صبح کے چہرہ پہ بھی ہائے ذرا نور نہیں

    طالب دید ہیں سب پر نہیں موسیٰ کوئی

    ذرہ ذرہ میں تجلی ہے مگر طور نہیں

    مے سے توبہ ارے توبہ ارے زاہد توبہ

    مئے عرفاں کی قسم یہ مرا مقدور نہیں

    اے دلِ وصل طلب یاس مبارک تجھ کو

    کہہ رہی ہیں وہ نگاہیں ہمیں منظور نہیں

    کیسے خاموش ہو اے قبر کے سونے والو

    سانس تک لینے کا اس شہر میں دستور نہیں

    مأخذ :
    • کتاب : ماہنامہ مشورہ، آگرہ (Pg. 435)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے