کوئی تسکین کی شکل اے دل مہجور نہیں
کوئی تسکین کی شکل اے دل مہجور نہیں
صبح کے چہرہ پہ بھی ہائے ذرا نور نہیں
طالب دید ہیں سب پر نہیں موسیٰ کوئی
ذرہ ذرہ میں تجلی ہے مگر طور نہیں
مے سے توبہ ارے توبہ ارے زاہد توبہ
مئے عرفاں کی قسم یہ مرا مقدور نہیں
اے دلِ وصل طلب یاس مبارک تجھ کو
کہہ رہی ہیں وہ نگاہیں ہمیں منظور نہیں
کیسے خاموش ہو اے قبر کے سونے والو
سانس تک لینے کا اس شہر میں دستور نہیں
- کتاب : ماہنامہ مشورہ، آگرہ (Pg. 435)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.