میدانِ عشق میں نہ کوئی رہنما ملا
میدانِ عشق میں نہ کوئی رہنما ملا
جس دل پہ کی نظر وہی غم آشنا ملا
رسوا جہاں میں کرکے مجھے اے جفا شعار
تسکینِ جان و دل کا ترے مدعا ملا
اس نے تمام راز کہے اف رقیب سے
میری عنایتوں کا مجھے یہ صلہ ملا
مشتاق دید سیکڑوں اے شوقؔ مر گئے
اس کے مقام کا نہ ابھی تک پتا ملا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.