Font by Mehr Nastaliq Web

مجھے ڈر ہے کہ اس کو بھی نہ مجھ سے چھین لے کوئی

شہرت شکوہ آبادی

مجھے ڈر ہے کہ اس کو بھی نہ مجھ سے چھین لے کوئی

شہرت شکوہ آبادی

مجھے ڈر ہے کہ اس کو بھی نہ مجھ سے چھین لے کوئی

خیال یار کی بھی کر رہا ہوں میں نگہبانی

نہیں معلوم کیا ہے الفتِ دل اور میں کیا ہوں

میں اتنا جانتا ہوں ہے جگر میں سوزِ پنہانی

مسلمانو تم ہی الفت نہ رکھو گے تو یہ ہوگا

چو کفر از کعبہ بر خیزد کجا ماند مسلمانی

عدم پیرومحمد کے یہ مل کر ہاتھ کہتے ہیں

چرا کارے کند عاقل کہ باز آید پشیمانی

جو مشکل ہو تو حل ہوتی ہے شہرتؔ ایک نقطہ سے

کہ کام آتا ہے ہر تکلیف میں نقشِ سلیمانی

مأخذ :

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY
بولیے