واہ کیا حوب شباب آنے سے صورت نکلی
واہ کیا حوب شباب آنے سے صورت نکلی
اور صورت بھی وہ نکلی کی قیامت نکلی
ہم مصائب میں ملانے جو لگے دونوں کو
روز محشر سے زیادہ شب فرقت نکلی
نہ یقیں ہوتا تھا کہنا مرا لو اب دیکھو
کس کے بیمار محبت کی یہ میت نکلی
ناتوانی کا ہے یہ زور کہ اللہ اللہ
سانس بھی سینہ سے نکلی توبد قت نکلی
شکر کی جاہے کہ کچھ منھ سے مرے پیش خدا
دم پرسش بھی نہ اس بت کی شکایت نکلی
عرش سے فرش تک اے جان تہہ و بالا ہے
آہ دل سے مرے کیا نکلی قیامت نکلی
وہ دم نزع بھی آئے نہ عیادت کو بلیغؔ
مرتے مرتے بھی مرے دل کی نہ حسرت نکلی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.