تم نے سرِ مغرور کو دیکھا کہ نہیں آج
تم نے سرِ مغرور کو دیکھا کہ نہیں آج
بالائے فلک کل تھا تو ہے زیر زمیں آج
کافر ترے ہاتھوں سے کسی کا دل و دیں آج
رہ جائے جو ثابت یہ تو ممکن ہی نہیں آج
وہ رشک مسیحا ہی مرا جبکہ نہیں آج
پھر رہ کے کرے گی یہاں کیا جان حزیں آج
مانا کہ وہ سچ کہتے ہیں کل آئیں گے بے شک
پر اس دل بیتاب کو ہو بھی تو یقیں آج
بے بوسۂ ابرو لیے ہٹنے کا نہیں میں
ہوتے ہیں تو ہونے دو انہیں چیں بجبیں آج
بے شک سر عشاق پہ آئی کوئی آفت
بے وجہ ان ہاتھوں میں نہیں خنجر گیں آج
اس عمر دو روزہ پہ جنہیں ناز تھا کل تک
سایہ بھی نظر آتا ہے اس کا نہ کہیں آج
کس طرح سے سمجھے گا بلیغؔ اب مجھے وہ دوست
دشمن کا سخن جب ہے اسے ذہن نشیں آج
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.