Font by Mehr Nastaliq Web

تم نے سرِ مغرور کو دیکھا کہ نہیں آج

سبط الحسنین بلیغ

تم نے سرِ مغرور کو دیکھا کہ نہیں آج

سبط الحسنین بلیغ

MORE BYسبط الحسنین بلیغ

    تم نے سرِ مغرور کو دیکھا کہ نہیں آج

    بالائے فلک کل تھا تو ہے زیر زمیں آج

    کافر ترے ہاتھوں سے کسی کا دل و دیں آج

    رہ جائے جو ثابت یہ تو ممکن ہی نہیں آج

    وہ رشک مسیحا ہی مرا جبکہ نہیں آج

    پھر رہ کے کرے گی یہاں کیا جان حزیں آج

    مانا کہ وہ سچ کہتے ہیں کل آئیں گے بے شک

    پر اس دل بیتاب کو ہو بھی تو یقیں آج

    بے بوسۂ ابرو لیے ہٹنے کا نہیں میں

    ہوتے ہیں تو ہونے دو انہیں چیں بجبیں آج

    بے شک سر عشاق پہ آئی کوئی آفت

    بے وجہ ان ہاتھوں میں نہیں خنجر گیں آج

    اس عمر دو روزہ پہ جنہیں ناز تھا کل تک

    سایہ بھی نظر آتا ہے اس کا نہ کہیں آج

    کس طرح سے سمجھے گا بلیغؔ اب مجھے وہ دوست

    دشمن کا سخن جب ہے اسے ذہن نشیں آج

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے